Breaking news

When articles against Allama Iqbal were published in newspapers and magazines!

Allama Iqbal's Persian Masnavi was published in 1915. In it, Plato and Hafiz Shirazi were criticized by Allama.

He criticized Hafiz in 35 poems and urged Muslims to stay away from Hafiz's words which sparked a debate in literary circles. Newspaper articles were written against him. The Sufis became disgusted with Allama. Some gentlemen gave a systematic answer to his Masnavi. Mian Malik Muhammad Qadri of Jhelum defended Hafiz Shirazi in his systematic reply. And Hafiz was defended.
Hassan Nizami and Akbar Allahabadi were also angry with the criticism of the great Persian poet Hafiz. The latter expressed his displeasure in his letters to Maulana Abdul Majid Darya Badi. Two years after the publication of Israr Khodi, he wrote a letter to Maulana Darya Badi: “Iqbal is very fond of attacking Sufism nowadays. It is said that Ajami philosophers have declared the world as God and this is wrong, it is against Islam.
When 'Ramuz Bekhodi' was published, Iqbal also sent a copy of it to Akbar Allahabadi who did not even want to see it. He wrote to Maulana Darya Badi: You may have seen his Masnavi Israr-e-Khudi. Now the codes have been published. I did not see However, it was Akbar Allahabadi who later reconciled Allama Iqbal and Hassan Nizami.


Criticism of Hafiz also angered the Sufis. He attributed this criticism to anti-Sufism. Therefore, on January 15, 1916, Allama Iqbal wrote an article in "Vakil" entitled "Mysteries of Self and Sufism" from which I can see the following lines:
"From a poetic point of view, I consider Hafiz to be a very high-ranking person, but from a national point of view, there should be a standard for evaluating the value of a poet. In my opinion, the standard is that if a poet's poems are helpful in the purpose of life, then that poet is good. If his poems contradict life or tend to weaken or weaken the power of life, then the poet is especially harmful to the nation. The condition that Khwaja Hafiz wants to create in the hearts of his readers is very dangerous for the people of the nation who live in this world of time and place.
He repeated the same thing in a letter to Maharaja Kishan Prasad two months later and clarified his views on art. He writes: "I appreciate the poetry of Khawaja Hafiz. I believe that such a poet has not been born in Asia till today and probably will not be born but the condition which he wants to create in the heart of the reader is to weaken and weaken the life force.


On the other hand, Maulana Aslam Jirajpuri also wrote an article in support of Allama Iqbal in which he said that such views about Khawaja Hafiz have been expressed before. It is well known that Aur Ng Zeb Alamgir had preached that no one should read Diwan-e-Hafiz because people get misunderstood by understanding its apparent meaning.
When articles against Allama Iqbal were published in newspapers and magazines!

علّامہ اقبال کی فارسی مثنوی 1915ء میں شائع ہوئی۔ اس میں افلاطونؔ اور حافظ شیرازیؔ پر علّامہ نے تنقید کی تھی۔

انہوں نے حافظؔ پر 35 اشعار میں تنقید کرتے ہوئے مسلمانوں کو حافظ کے کلام سے دور رہنے کی تلقین کی تھی جس پر ادبی حلقوں میں بحث چھڑ گئی۔ اخباروں میں ان کے خلاف مضامین لکھے گئے۔ اہلِ تصوف علاّمہ سے بدظن ہوگئے۔ بعض حضرات نے ان کی مثنوی کا منظوم جواب دیا۔ جہلم کے میاں ملک محمد قادری نے اپنے منظوم جواب میں حافظ شیرازی کا دفاع کیا، اسی طرح پیر زادہ مظفر احمد فضلی نے ’اسرارِ خودی‘ کے جواب میں ’’رازِ بے خودی‘‘ کے عنوان سے مثنوی لکھی جس میں علاّمہ اقبال پر تنقید اور حافظ کا دفاع کیا گیا تھا۔

فارسی کے عظیم شاعر حافظ پر تنقید سے حسن نظامی اور اکبر الٰہ آبادی بھی ناراض ہوئے۔ مؤخرالذّکر نے مولانا عبدالماجد دریا بادی کے نام اپنے خطوط میں اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ ’اسرار خودی ‘کے شائع ہونے کے دو سال بعد انہوں نے مولانا دریا بادی کو ایک خط تحریر کیا: ’’اقبال صاحب کو آج کل تصوف پر حملے کا بڑا شوق ہے۔ کہتے ہیں عجمی فلاسفی نے عالم کو خدا قرار دے رکھا ہے اور یہ بات غلط ہے، خلافِ اسلام ہے۔‘‘

جب ’رموز بے خودی‘ شائع ہوئی تو اقبالؔ نے اس کا نسخہ اکبر الہ آبادیؔ کو بھی روانہ کیا جنھوں نے اسے دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ انہوں نے مولانا دریا بادی کو لکھا: ’اقبال نے جب سے حافظ شیرازی کو علانیہ بُرا کہا ہے میری نظر میں کٹھک رہے ہیں۔ ان کی مثنوی اسرارِ خودی آپ نے دیکھی ہوگی۔ اب رموزِ بے خودی شائع ہوئی ہے۔ میں نے نہیں دیکھی۔ دل نہیں چاہا۔‘ تاہم بعد میں اکبر الہ آبادی ہی نے علامہ اقبال اور حسن نظامی میں صلح کروا دی۔

حافظ پر تنقید سے اہلِ تصوف بھی علّامہ سے ناراض ہوئے۔ انہوں نے اس تنقید کو تصوّف دشمنی پر محمول کیا۔ چنانچہ 15 جنوری 1916ء کو علامہ اقبال نے ’’وکیل‘‘ میں ’اسرارِ خودی اور تصوّف‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا جس سے یہ سطور ملاحظہ ہوں:

’’شاعرانہ اعتبار سے میں حافظؔ کو نہایت بلند پایہ سمجھتا ہوں لیکن ملّی اعتبار سے کسی شاعر کی قدر و قیمت کا اندازہ کرنے کے لیے کوئی معیار ہونا چاہیے۔ میرے نزدیک معیار یہ ہے کہ اگر کسی شاعر کے اشعار اغراضِ زندگی میں ممد ہیں تو وہ شاعر اچھا ہے۔ اگر اس کے اشعار زندگی کے منافی ہیں یا زندگی کی قوت کو پست یا کمزور کرنے کا میلان رکھتے ہوں تو وہ شاعر خصوصاً قومی اعتبار سے مضرت رساں ہے۔ جو حالت خواجہ حافظ اپنے پڑھنے والوں کے دل میں پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ حالت افرادِ قوم کے لیے جو اس زمان و مکان کی دنیا میں رہتے ہیں نہایت ہی خطر ناک ہے۔‘‘

انہوں نے مہاراجہ کشن پرشاد کو بھی اس کے دو ماہ بعد ایک خط میں یہی بات دہرائی اور فن کے متعلق اپنا نظریہ واضح کیا۔ لکھتے ہیں: ’’خواجہ حافظ کی شاعری کا میں معترف ہوں۔ میرا عقیدہ ہے کہ ویسا شاعر ایشیا میں آج تک پیدا نہ ہوا اور غالباً پیدا بھی نہ ہوگا لیکن جس کیفیت کو وہ پڑھنے والے کے دل پر پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ کیفیت قوائے حیات کو کمزور اور ناتواں کرنے والی ہے۔‘‘

ادھر علاّمہ اقبال کی حمایت میں مولانا اسلم جیراجپوری نے بھی ایک مضمون لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ خواجہ حافظ ؔ کے بارے میں اس طرح کی آرا پہلے بھی ظاہر کی جاچکی ہیں۔ چنانچہ مشہور ہے کہ اور نگ زیب عالمگیر نے منادی کرا دی تھی کہ دیوانِ حافظ کوئی نہ پڑھے کیوں کہ لوگ اس کے ظاہری معنیٰ سمجھ کر گمراہ ہوجاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button