Uncategorized

The world’s first ‘dual mode’ car was inaugurated

The world's first dual mode car has been inaugurated in Japan. The car also runs on road and rail tracks.

According to a report by a foreign news agency, a dual carriage was inaugurated in Kayo area of ​​Tokushima, Japan, which can carry 21 passengers at a time.

The truck, which looks like a DMV, runs on rubber tires like other vehicles on the road, but when it reaches the interchange, the steel tires at the bottom of it hit the rail track and the vehicle starts moving like a train.
The train wheels keep the front tires of the vehicle up, while the rear wheels stay down to keep the DMV on track.

The CEO of the company operating the DMV service described the service as the best alternative to local transport for people living in rural areas. Able to move at speed.
The company's CEO said it would be a great form of public transport, especially for the elderly in rural areas.

The world's first 'dual mode' car was inaugurated

جاپان میں دنیا کی پہلی ڈوئل موڈ گاڑی کا افتتاح کردیا گیا، گاڑی روڈ اور ریل ٹریک پر بھی چلتی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جاپان کے شہر توکو شیما کے علاقے کایو میں دہری سہولت فراہم کرنے والی گاڑی کا افتتاح کیا گیا جس میں بیک وقت 21 مسافر سوار ہوسکتے ہیں۔

ڈی ایم وی کی طرح دکھنے والی گاری روڈ پر دوسری گاڑیوں کی طرح ربر کے ٹائر پر چلتی ہے لیکن جب انٹرچینج پر پہنچتی ہے تو اس کے نچلے حصے میں موجود اسٹیل کے ٹائر ریل ٹریک پر آجاتے ہیں اور گاڑی ٹرین کی طرح چلنے لگتی ہے

ٹرین وہیل گاڑی کے اگلے ٹائر کو اوپر اٹھا کر رکھتے ہیں جبکہ پچھلے پہیے ڈی ایم وی کو ٹریک پر چلانے کے لیے نیچے ہی رہتے ہیں۔

ڈی ایم وی سروس چلانے والی کمپنی کے سی ای او نے دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے اس سروس کو لوکل ٹرانسپورٹ کا بہترین متبادل قرار دیتے ہوئے کہا کہ گاڑی ریل کی صورت میں 60 کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ روڈ پر 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

کمپنی کے سی ای او کا کہنا تھا کہ خاص طور پر دیہی علاقوں میں عمر رسیدہ افراد کے لیے یہ پبلک ٹرانسپورٹ کی ایک بہت اچھی شکل ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button