Breaking news

Omicron is not the last variant of Corona, WHO

The World Health Organization (WHO) has said that the omecron variant of the corona virus will not be the last genetic mutation, and that the mutation process is continuing.

During the first press conference of the year with the global pathologists at the organisation's Geneva Center, WHO director Tedros Adhanom Gabreis said that last week was the most coronary event since the outbreak began.
Although the effects of the Omecron variant, especially on vaccinators, are significantly lower than those of Delta, we still do not classify it as a "weaker" variant, said Gabrie Sis. Like the previous variants, Omicron is making humans sick and pushing them to the brink of death. Its effects are like a tsunami, spreading rapidly, putting pressure on the health system.
On the other hand, Maria Van, the leader of the World Health Organization's anti-corona team, said in response to questions about Omecron that all current relevant vaccines are effective against this variant.

He said that thanks to the vaccine, patients are avoiding its severe effects, so everyone should be vaccinated.

عالمی ادارہ صحت  نے اطلاع دی ہے کہ کورونا وائرس کا اومیکرون  ویریئنٹ  آخری جنیاتی تبدیلی نہیں ہو گا، یہ  تغیر کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

ڈبیلو ایچ او کے ڈائریکٹر  تیدروس ادہانوم  گیبرے سس   نے   ادارے کے جنیوا  مرکز میں  عالمی  ماہرین امراض کے ہمراہ   سال کی پہلی  پریس کانفرس کے دوران بتایا ہے کہ  گزشتہ ہفتے وبا پھوٹنے کے آغاز سے  ابتک کے سب سے زیادہ کورونا واقعات  سامنے  آئے ہیں۔

اومیکرون  ویرئینٹ کے خاصکر ویکسین لگوانے والے افراد پر   ڈیلٹا کے مقابلے میں  اثرات کے کافی کم  ہونے، تا ہم اس کے باوجود اس  کی ’’کمزور‘‘ ویرئینٹ کے طور  پر صنف بندی نہ  کرنے   کی وضاحت کرتے  ہوئے   گیبرے سس نے بتایا کہ  اس سے قبل کے  ویریئنٹس کی طرح  اومیکرون بھی انسانوں کو بیمار کررہا ہے اور موت کے منہ میں  دھکیل رہا ہے۔  اس کا اثر کسی صونامی طوفان کی مانند ہے،  یہ انتہائی تیزر رفتاری سے پھیل رہا  ہے  جو کہ  حفظان صحت کے نظام پر   دباؤ پڑنے کا موجب ہے۔

دوسری جانب  عالمی ادارہ صحت کی کورونا کے خلاف جدوجہد ٹیم کی لیڈر  ماریہ  وان  نے  اومیکرون کے بارے میں سوالات کے جواب میں  بتایا ہے کہ موجودہ تمام تر متعلقہ ویکسین  اس ویریئنٹ کے برخلاف بھی مؤثر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ویکسین کی بدولت مریض اس کے شدید اثرات سے  بچ رہے ہیں لہذا سب کو ویکسین لگوانی چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button