Indian hotel bans Russian salad

After the Russian invasion of Ukraine, a hotel in India banned Russian salad in its restaurant in solidarity with the people of Ukraine.

Russia After the Ukraine war, while many countries and institutions of the world are imposing various kinds of sanctions on Russia, an Indian hotel has made a unique decision on this issue.

A restaurant in the Indian state of Kerala has removed Russian salad from its menu in protest after Russia’s invasion of Ukraine.

Kashi Art Cafe & Gallery, based in Fort Kochi, has stated that the initiative is aimed at expressing solidarity with the people of Ukraine. The management has also written its decision on the notice board in this regard at the entrance of the restaurant.

Restaurant management says no Russian salad will be served to customers unless Russia stops its aggression against Ukraine.

Many countries and institutions, including the United States, Britain, and Europe, have imposed military, economic, and financial sanctions on Russia since Russia’s invasion of Ukraine. In this context, this move of the Indian hotel is being considered as a unique initiative due to which people will not be able to enjoy their favorite dish.

It should be noted that Russian salad, as the name suggests, is a local but popular dish of Russia, which is very popular not only because of its unique taste, but also because of its variety of fruits and vegetables. They also make it healthy.

Indian hotel bans Russian salad

یوکرین پر روس کے حملے کے بعد بھارت کے ایک ہوٹل نے یوکرین کے عوام سے اظہار یکجہتی کیلیے اپنے ریسٹورینٹ میں رشین سلاد پر پابندی لگادی۔

روس یوکرین جنگ کے بعد جہاں دنیا کے کئی ممالک اور ادارے روس پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کررہے ہیں وہیں ایک بھارتی ہوٹل نے اس معاملے پر انوکھا فیصلہ کیا ہے۔

بھارتی ریاست کیرالہ میں ایک ریسٹورینٹ نے روس کے یوکرین پر حملے کے بعد احتجاجاْ رشین سلاد کو اپنے مینیو سے نکال دیا ہے۔

فورٹ کوچی میں قائم کاشی آرٹ کیفے اینڈ گیلری نے واضح کیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد یوکرین کے عوام سے اظہار یکجہتی ہے۔ انتظامیہ نے ریسٹورنٹ کے داخلی مقام پر بھی اس حوالے سے نوٹس بورڈ پر اپنا فیصلہ تحریر کردیا ہے۔

ریسٹورینٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی گاہک کو اس وقت رشین سلاد نہیں دیا جائیگا جب تک کہ روس یوکرین کے خلاف جارحیت کو بند نہیں کردیتا۔

یہاں بتاتے چلیں کہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد امریکا، برطانیہ، یورپ سمیت کئی ممالک اور اداروں نے روس پر فوجی، اقتصادی اور مالی پابندیاں عائد کردی ہیں لیکن ان ممالک میں کہیں بھی کسی ہوٹل یا ادارے کی جانب سے رشین سلاد کے بائیکاٹ کا اعلان سامنے نہیں آیا ہے، اسی تناظر میں بھارتی ہوٹل کا یہ اقدام ایک انوکھا اقدام ہی تصور کیا جارہا ہے جس کے باعث لوگ اپنی من پسند ڈش سے محظوظ نہ ہوسکیں گے۔

واضح رہے کہ رشین سلاد جیسا کہ نام سے ظاہر ہے روس کی ایک مقامی لیکن دنیا بھر میں مقبول عام ڈش ہے، جو اپنے منفرد ذائقے کے باعث نہ صرف ہر خاص وعام میں انتہائی مقبول ہے بلکہ اس میں شامل مختلف پھل، سبزیاں اسے انسان کیلیے صحت بخش بھی بناتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button