News

یورپی یونین افغان طالبان کے ساتھ روابط قائم کرنے پر تیار

Afghan Taliban

یورپی یونین نے جمعے کے دن جاری کردہ اپنے ایک اہم اعلان میں کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مشروط روابط قائم کیے جائیں گےاور اگر سلامتی کی صورتحال اجازت دیتی ہے تو افغان دارالحکومت میں موجودگی ممکن بنائے جائے گی تاکہ اس شورش زدہ ملک سے نکلنے والے مقامی لوگوں کو مدد فراہم کی جا سکے۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کے نگران جوزف بوریل نے کہا، ”ہمیں افغانستان کی نئی حکومت کے ساتھ انگیج ہونا پڑے گا، جس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ان کی حکومت کو تسلیم کیا جا رہا ہے بلکہ یہ صرف ایک آپریشنل انگیجمنٹ ہے‘‘۔ سلووانیہ میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کی ایک میٹنگ کے بعد جمعے کے دن بوریل نے مزید کہا کہ اس طرح کے روابط کا مستقبل دارصل نئی افغان حکومت کی رویوں سے ہی طے ہو گا۔

یورپی یونین نے افغان طالبان کے ساتھ روابط قائم کرنے کی خاطر اپنی شرائط وضع کر لی ہیں۔ تاہم واضح کیا گیا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ یورپی یونین طالبان کی حکومت کو تسلیم کر رہی ہے۔

European Union

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ان روابط کے قیام کے لیے کچھ شرائط بھی تجویز کی ہیں، جن پر طالبان کا عمل کرنا ضروری ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ان اہم بینج مارکس میں یہ بھی شامل ہے کہ طالبان کی نئی حکومت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ ان کے دور میں افغان سرزمین کو دہشت گردی کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

اس کے علاوہ ان شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ طالبان کی نئی حکومت خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گی جبکہ ملکی میڈیا کو آزادی کے ساتھ  کام کرنے کی اجازت دے۔ ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ طالبان نئی حکومت میں تمام سیاسی و نسلی گروپوں کی شمولیت ممکن بنائیں گے اور نئی حکومت تمام افغان عوام کی نمائندہ ہو گی۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کے نگران نے یہ بھی کہا ہے کہ یورپی یونین کابل میں اپنی موجودگی قائم کرنے کے بارے میں متفق ہے تاہم اس کے لیے حالات کا سازگار اور سکیورٹی کو یقینی ہونا ضروری ہے۔ اس مشن کے تحت یورپی ممالک افغان طالبان کے ساتھ ورکنگ ریلشن شپ قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button