News

کالعدم ٹی ٹی پی کے موجودہ حملوں سے زیادہ پریشان نہیں: وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے موجودہ حملوں سے زیادہ پریشان نہیں، ہماری فوج اور ایجنسیز ان سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

ن خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے ترک میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، جس کی مکمل تفصیلی ویڈیو میزبان کی طرف سے جاری کر دی گئی ہے۔

انٹرویو کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فوج منظم اور تجربہ کار ہے، 40دنوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا تاہم ہم اس سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں، پاکستان کو امریکی ڈرون حملو ں سے ہونیوالے نقصان کا رد عمل برداشت کرنا پڑا، کالعدم ٹی ٹی پی کے حملوں سے پریشان نہیں ہیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے کچھ گروپوں سے امن کیلئے بات چیت کرنا چاہتے ہیں، کالعدم ٹی ٹی پی کو غیرمسلح کرنے کیلئے مذاکر ات ہوسکتے ہیں۔ مذاکرات میں افغان طالبان ثالث کاکردارادا کر سکتے ہیں، ہم بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مضحکہ خیز ہے کہ اگر امریکی پالیسیوں پر تنقید کی جائے تو امریکا مخالف گردانے جائیں گے، ہمیں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھا ناپڑا، اجتماعی نقصان کی وجہ سے افغانستان میں امریکہ کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا، افغانستان کے خیر خواہ ہونے کی بدولت ہم چاہتے ہیں کہ وہاں استحکام ہو اور تمام فریقین پر مشتمل حکومت ہو، تاریخ شاہد ہے کہ افغانوں کو کسی کے زیر تسلط نہیں لایا جا سکتا، انخلا کے وقت کابل ائیر پورٹ پر پیدا ہونیوالی صورتحال کی وجہ سے امریکی صدر جوزف بائیڈن پر تنقید ہو رہی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب ہم افغانستان میں خونریزی کی توقع کر رہے تھے کیونکہ روسیوں کے جانے کے بعد وہاں صورتِ حال خراب ہوئی تھی۔ 1979ء میں افغانستان میں لاکھوں افغان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ جس کے نتیجہ میں طالبان سامنے آئے۔ حال ہی میں امریکا اور اس کی اتحادی افواج کے کابل سے انخلاء پر ہم خوفزدہ تھے کہ کابل پر قبضہ کرتے وقت وہاں خون ریزی ہوسکتی ہے مگر غیر متوقع طور پر اختیارات کا بہت پر امن انتقال ہوا، اب افغانستان میں انسانی بحران کا مسئلہ ہے کیونکہ افغان حکومت 70 تا 75 فیصد بجٹ کیلئے بیرونی امداد پر انحصار کرتی ہے، اب لوگوں کو خدشہ ہے کہ طالبان کے آنے کے بعد بیرونی امداد ختم ہو جائے گی جس سے انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوری طور پراگر افغانستان کو امداد فراہم نہیں کی جاتی تو اس بات کا خطرہ ہے کہ وہاں افراتفری پیدا ہوگی اور انسانی بحران جنم لے گا۔ وزیر اعظم نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کی مدد کی جائے۔

بین الاقوامی برادری اور پاکستان کی جانب سے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے سوال پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم افغانستان کے تمام ہمسایوں سے مشاورت کریں گے کہ کب طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا جائے کیونکہ اگر پاکستان تنہا طالبان کو تسلیم کر بھی لے تو اس سے زیادہ فرق نہیں پڑنا، ہونا تو یہ چاہیے کہ امریکہ، یورپ، چین اور روس بھی ان کی حکومت کو تسلیم کریں تاہم تمام ہمسایہ ممالک مل کر ایک مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دے سکتے ہیں کہ کب طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا ہے تو پاکستان سب کی مشاورت سے ایسا کرے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button