NewsWorld

ماحولیاتی تبدیلی کے مقابلے کے لیے فوڈ سسٹم بدلنا ہوگا،اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے دنیا کو فوڈ سسٹم بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہیں اس پرغور کرنا ہوگا کہ وہ کھانا کیسے پکاتے ہیں، کیسے کھاتے ہیں اور خوراک کس طرح برباد کرتے ہیں۔

اقوم متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹریش نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جمعرات کے روز کہا کہ ”ہمارے کرہ ارض پر ہونے والی جنگ بند ہونی چاہیے اور فوڈ سسٹم امن کے قیام میں ہماری مدد کرسکتا ہے۔”

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ہمارا فوڈ سسٹم ایک تہائی گرین ہاوس گیسز پیدا کرنے کا سبب ہے، انٹونیو گوٹریش کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے سن 2015 میں منظور شدہ پائیدار ترقیاتی اہداف پر عمل کرکے جہاں بھوک اور غربت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے وہیں ا س سے عالمی صحت اور دولت کے حصول میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

گوٹریش نے زرعی سبسڈی میں اصلاحات پر زور دیا اور کہا کہ خوراک کو محض ‘تجارت کی ایک شئے نہیں سمجھا جانا چاہئے بلکہ یہ اسے ایک حق کے طورپر تسلیم کیا جانا چاہئے جس میں ہر ایک کا حصہ ہو۔”

ورلڈ بینک گروپ، انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور فوڈ اینڈ لیند یوز کولیشن نے منصفانہ فوڈ سسٹم کے ساتھ 4.5 کھرب ڈالر کے تجارتی مواقع کا ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے اس ہفتے کے اوائل میں بھوک کو ختم کرنے کے لیے 10ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کرنے کے بعد بل گیٹس فاونڈیشن نے دنیا بھر سے قلت تغذیہ کو ختم کرنے کے لیے جمعرات کے روز 900 ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا۔

 عالمی رہنماوں نے ماحولیات کی صورت حال مزید ابتر ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کے سماجی اور سیاسی مضمرات ہوسکتے ہیں۔

امریکا کے وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا،”دیکھئے آج تقریباً ہر جگہ بین الاقوامی امن اورسلامتی کو خطرہ درپیش ہے۔ اور آپ یہ پائیں گے کہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے پرامن ماحول اورسکیورٹی میں کمی ہورہی ہے اور حالات ہمارے لیے مزید چیلنجنگ بنتے جارہے ہیں۔”

حالانکہ روس اور چین نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے عالمی امن پر کوئی بہت زیادہ اثرنہیں پڑ رہا ہے تاہم امریکی رہنما نے اپنی بات پر زور دینے کے لیے شام، مالی، یمن، جنوبی سوڈان اور ایتھوپیا کی مثالیں دیں۔

انٹونی بلینکن کا کہنا تھا،”ہمیں اس بحث میں نہیں الجھنا چاہئے کہ ماحولیاتی بحران کا تعلق سلامتی کونسل سے ہے یا نہیں اس کے بجائے ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ سلامتی کونسل امن او ر سلامتی پر ماحولیات کے پڑنے والے منفی اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے مخصوص اختیارات کا استعمال کس طرح کرسکتی ہے۔”

گوٹریش کا کہنا تھا،”ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات بالخصوص اس وقت بڑھ جاتے ہیں جب ماضی یا موجودہ تصادم بھی ان سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔”اور جب ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے پانی جیسے قدرتی وسائل کی قلت پیدا ہوجاتی ہے تو لوگوں کی شکایات اور کشیدگی اپنے عروج کو پہنچ کر تباہ کن صورت اختیار کرسکتی ہے۔ جس کی وجہ سے تصادم کو روکنے اور امن کو برقرار رکھنے کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔”

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button