NewsWorld

فومیو کیشیدا جاپان کے نئے وزیر اعظم

رخصت پذیر وزیر اعظم یوشی ہیدے سوگا نے کابینہ کو تحلیل کردیا ہے، جس کے ساتھ ہی فومیو کیشیدا کے نئے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ وہ پیر کو جاپان کے 100ویں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال رہے ہیں۔

سابق وزیر خارجہ کیشیدا کوجاپان کی حکمراں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کی قیادت کے لیے رہنما کے طور پر گزشتہ ہفتے متفقہ طور پر منتخب کیا گیا تھا۔

کیشیدا نے پیر کے روز پارلیمان میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال لیا۔ یہ صرف رسمی کارروائی تھی کیونکہ اسمبلی میں ایل ڈی پی کو اکثریت حاصل ہے۔

کیشیدا سن 1885میں ایک کابینی نظام اپنانے کے بعد سے جاپان کے 100ویں وزیر اعظم ہوں گے۔ وہ یوشی ہیدے سوگا کے جانشین ہوں گے، جنہوں نے لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما کے طور پر دوبارہ منتخب ہونے کی دوڑ میں شامل ہونے میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

کورونا وائر س کی وبا سے نمٹنے میں مبینہ ناکام رہنے کے لیے سوگا پر سخت نکتہ چینی ہو رہی تھی جس کی وجہ سے ان کی مقبولیت کافی کم ہوگئی تھی

جاپان کے نئے وزیر اعظم کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں ملک کی معیشت کو درپیش مسائل سے نمٹنا اور اسے تقویت فراہم کرنا ہے۔

کیشیدا کا کہنا ہے کہ وہ اقتصادی اصلاحات کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، جسے ‘ابینومکس‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کا آغاز سابق وزیر اعظم نے کیا تھا۔ اس کے تحت مالیاتی پالیسیوں کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

وہ 269 ارب ڈالر کے ایک بہت بڑے حوصلہ افزا پیکج کوبھی اس سال کے اواخر تک نافذ کرنا چاہتے ہیں تاکہ وبا کی وجہ سے جاپانی تجارت کو پہنچنے والے نقصانات کی بھرپائی کرنے میں مدد مل سکے۔

Fumio Kishida

انہوں نے سابقہ دو دہائی قبل کے ‘نیولبرلزم‘ کی پالیسی پر عمل کرنے کے بجائے ایک ’نئی جاپانی سرمایہ دارانہ‘ پالیسی کا وعدہ کیا ہے۔ وہ ٹیکس قوانین میں تبدیلی کرکے لوگوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے اقدامات اور چھوٹے اور درمیانہ سائز کی تجارت کو تحفظ فراہم کرنے کی ایک نئی پالیسی پر بھی کام کرنا چاہتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button