NewsWorld

جلد یا بدیر امریکا کو طالبان کی حکومت تسلیم کرنا پڑے گی : وزیراعظم عمران خان

 وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ جلد یا بدیر امریکا کو طالبان کی حکومت تسلیم کرنا پڑے گی، ابھی امریکا قربانی کے بکرے تلاش کررہا ہے، بدقسمتی سے پاکستان بھی ان میں سے ایک ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ترک ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہمسائیوں کی مشاورت سے طالبان حکومت تسلیم کرنےکافیصلہ کریں گے ، صرف پاکستان کے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے فرق نہیں پڑے گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم امن کیلئےبات چیت پریقین رکھتے ہیں، مذاکرات ہی آگےبڑھنےکاواحدراستہ ہے، سوال یہ ہے امریکا طالبان کو کب تسلیم کرےگا، امید ہے امریکاافغان حکومت کوتسلیم کرے گا۔

افغانستان کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں افراتفری ہوتی ہےتونقصان افغان عوام کاہی ہوگا، ہمیں مسئلےکاحل نکالناہوگا اور افغان عوام کے بارے میں سوچنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی تاریخ کاپاکستان کی تا ریخ سےگہراتعلق ہے، سرحدکےآرپارافغانستان اورپاکستان میں پختون آبادہیں، پختون قبائل آپس میں لڑتےہیں لیکن مل کربیرونی خطرےکامقابلہ کرتےہیں، پختونوں کی طالبان سےہمدردی پختون ہونےکی وجہ سےتھی۔

صدربائیڈن سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ صدربائیڈن کونشانہ بناناناانصافی ہے،موجودہ صورتحال میں اس کےسواچارہ نہ تھا، طالبان نےافغانستان پرقبضہ کیا تو امریکا کوجھٹکالگا، جنرل کیانی کاامریکاکادورہ کیااوربتایاکہ مسئلےکاکوئی فوجی حل نہیں۔

Afghan Taliban

عمران خان کا کہنا تھا کہ نائن الیون کےبعدامریکی مؤقف مضحکہ خیزتھاکہ اگرہمارےساتھ نہیں ہمارےمخالف ہیں، سمجھاگیاکہ امریکی پالیسیوں پرتنقیدکرنےوالےامریکاکےخلاف ہیں، امریکی عوام افغانستان کی صورتحال سےبےخبرہیں۔

انھوں نے کہا کہ دوہزارآٹھ میں ہماری کرنسی اپنی آدھی قدرکھوچکی تھی ، افغان صورتحال پرہمیں قربانی کابکرابناناہمارے لیےتکلیف دہ تھا، افغان صورتحال کا کوئی بھی ذمے دارہو لیکن پاکستان نہیں، افغان طالبان کی تحریک کودیہی علاقوں میں زیادہ پذیرائی ملی، افغانستان میں مختلف نسلوں کے لوگ آبادہیں،پختون آبادی کا50فیصدہیں۔

افغانستان میں مخلوط حکومت کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جامع حکومت کامطلب مستحکم افغانستان ہے، ہم افغانستان کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں،مخلوط حکومت کےحوالےسےوہاں کچھ مسلط نہیں کرناچاہتے ، افغانستان کوباہرسےکنٹرول کرنےکی سوچ خام خیالی ہے، تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ آپ افغان عوام کوکنٹرول نہیں کرسکتے، وہاں ایک غیرمرتکزجمہوری نظام ہے، افغان عوام بہت جمہوری لوگ ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسی کےسربراہ امریکی ہم منصبوں سےرابطےمیں ہیں، امریکی صدرجوبائیڈن اس وقت دباؤ میں ہیں، اجتماعی نقصان کی وجہ سےافغانستان میں امریکاکےخلاف نفرت بڑھی ، کوئی مثبت کردارادانہ کیاگیاتوصورتحال امریکا اورروس کے انخلا کے بعد جیسی ہوگی۔

شمالی وزیرستان میں آپریشن سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ 2014میں سیکیورٹی فورسزنےشمالی وزیرستان میں آپریشن کیا، افغانستان میں موجودپاکستان مخالف دہشت گردوں کی افغان اوربھارتی ایجنسی نے مدد کی۔

پاک فوج کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ ہماری فوج تجربہ کاراورمنظم ہے، ہمیں اعتمادہےکہ ہماری فوج دہشت گردوں سےنمٹ لےگی، حالیہ دنوں میں دہشت گردوں کےحملےبڑھنےپرتشویش ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button