News

جب فاطمہ جناح نے مزار قائد کا ’اسلامی فن تعمیر سے مطابقت نہ رکھنے والا‘ ڈیزائن مسترد کیا

یہ 11 ستمبر 1948 کی بات ہے جب پاکستانی قوم اپنے قائد محمد علی جناح کے سائے سے محروم ہوئی۔

12 ستمبر 1948 کو نماز فجر سے پہلے محمد علی جناح کے جسد خاکی کو حاجی ہدایت حسین عظیم اللہ عرف حاجی کلو نے غسل میت دیا۔

نماز فجر کے بعد مولانا انیس الحسنین نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی جس میں سید ہاشم رضا، سید کاظم رضا، یوسف ہارون اور دیگر عمائدین نے شرکت کی۔

مزارِ قائد کی تعمیر: ڈیزائن کے لیے مقابلہ

محمد علی جناح کی وفات کے بعد سے پوری ملت بابائے قوم کے شایان شان ان کا مقبرہ تعمیر کرنے کے لیے کوشاں تھی۔ اس مقصد کے لیے 20 ستمبر 1948 کو پاکستان کے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین کی سربراہی میں قائداعظم میموریل فنڈ کے نام سے ایک فنڈ قائم کیا گیا جس نے ایک روپے، پانچ روپے اور سو روپے کے کوپن جاری کیے۔

اس فنڈ کے قیام کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ جناح کے مزار کی تعمیر میں حکومت کے ساتھ ساتھ عوام بھی ہاتھ بٹا سکیں۔

سات آٹھ سال تک محمد علی جناح کی قبر ایک شامیانے کے زیر سایہ مرکز زیارت بنی رہی۔ اسی دوران جناح کے دو ساتھی لیاقت علی خان اور سردار عبدالرب نشتر بھی جناح کی قبر سے کچھ فاصلے پر سپرد خاک ہوئے۔

آہستہ آہستہ جناح کے مزار کے لیے ڈیزائن موصول ہونا شروع ہوئے۔ ان میں سے ایک ڈیزائن پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کے آرکیٹکٹ مہدی علی مرزا نے دوسرا علامہ اقبال کے مزار کے آرکیٹکٹ زین یار جنگ نے اور تیسرا ترکی کے آرکیٹکٹ وصفی ایجیلی نے تیار کیا تھا۔ مگر حکومت پاکستان نے یہ تینوں ڈیزائن مسترد کردیے۔

اس سلسلے میں سب سے پہلی اور نمایاں پیشرفت اس وقت ہوئی جب 1957 کے اوائل میں حکومت پاکستان نے اس مقصد کے لیے 61 ایکڑ زمین مختص کی۔

اسی سال کے وسط میں قائد اعظم میموریل کی سینٹرل کمیٹی کے ایما پر انٹرنیشنل یونین آف آرکیٹکٹس (آئی یو اے) نے جناح کے مزار کی ڈیزائننگ کے لیے ایک بین الاقوامی مقابلے کا اہتمام کیا۔ اس مقابلے میں 31 دسمبر 1957 تک ڈیزائن قبول کیے گئے۔ اس مقابلے میں 17 ممالک کے 57 نامور آرکیٹکٹس نے حصہ لیا۔

ان آرکیٹکٹس کے ڈیزائن کا جائزہ لینے کے لیے ایک بین الاقوامی جیوری بھی قائم کی گئی۔ اس جیوری کے چیئرمین پاکستان کے وزیر اعظم جناب فیروز خان نون تھے۔

تاہم انھوں نے مصروفیات کی بنا پر اس کی صدارت کے لیے وزیر خزانہ سید امجد علی کو نامزد کیا۔ جیوری کے دیگر ارکان میں دنیا کے بعض معروف ترین آرکیٹکٹس شامل تھے۔

8 فروری 1958 کو کراچی میں اس جیوری کے اجلاس شروع ہوئے اور 15 فروری 1958 کو اس جیوری نے اپنے فیصلے کا اعلان کردیا۔

اس فیصلے کے مطابق لندن کے ایک تعمیراتی ادارے ریگلان سکوائر اینڈ پارٹنرز کے ڈیزائن کو اول قرار دیا گیا۔ یہ ڈیزائن اس فرم سے وابستہ ایک آرکیٹکٹ رابرٹ اینڈ رابرٹس نے تیار کیا تھا

مقابلے کی انعامی رقم 25 ہزار روپے بھی اسی ادارے کو دی گئی۔ ریگلان سکوائر اینڈ پارٹنرز کا مجوزہ ڈیزائن جدید فن تعمیر کا شاہکار تھا اور فن تعمیر کے اسلوب ہائپر بولائیڈ میں بنایا گیا تھا۔ مگر بہت جلد اخبارات میں اس ڈیزائن کے خلاف مراسلات شائع ہونے لگے۔ ان مراسلات میں کہا گیا تھا کہ یہ ڈیزائن اسلامی فن تعمیر سے مطابقت نہیں رکھتا اور جناح کی شخصیت کے شایان شان نہیں ہے۔

محترمہ فاطمہ جناح نے ان مراسلات کا سختی سے نوٹس لیا اور ریگلان سکوائر اینڈ پارٹنرز کے ڈیزائن کو مسترد کرنے کا اعلان کر دیا۔

ممبئی کے یحییٰ مرچنٹ کو ڈیزائن کی ذمہ داریاں سونپنے کی درخواست

انھوں نے خواہش ظاہر کی کہ جناح کے مزار کا ڈیزائن بمبئی میں مقیم آرکیٹکٹ یحییٰ قاسم مرچنٹ سے بنوایا جائے جنھیں جناح خود بھی ذاتی طور پر پسند کرتے تھے۔

حکومت پاکستان نے مادر ملت کی خواہش کا احترام کیا اور یحییٰ مرچنٹ سے رابطہ کر کے انھیں محمد علی جناح کا مزار ڈیزائن کرنے کے لیے کہا۔

آخر کار حکومت پاکستان نے محترمہ فاطمہ جناح کی تجویز پر بمبئی کے مشہور آرکیٹکٹ یحییٰ مرچنٹ سے رجوع کیا جو محمد علی جناح کے کنسلٹنگ آرکیٹکٹ بھی رہ چکے تھے۔

یحییٰ مرچنٹ نے فوری طور پر اس درخواست کی تعمیل کی اور جناح کی شخصیت، کردار اور وقار کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ان کے شایان شان ایک مقبرے کا ڈیزائن تیار کیا جسے محترمہ فاطمہ جناح نے بھی پسند فرمایا، ان کی پسندیدگی کے بعد 12 دسمبر 1959 کو حکومت پاکستان نے بھی یہ ڈیزائن منظور کر لیا۔

یحییٰ مرچنٹ کا پورا نام یحییٰ قاسم بھائی مرچنٹ تھا اور وہ 1903 میں سورت میں پیدا ہوئے تھے۔ یحییٰ مرچنٹ کی وجہ شہرت محمد علی جناح کا مزار ہے جس کا نقشہ انھوں نے محترمہ فاطمہ جناح کی فرمائش پر تیار کیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ یحییٰ مرچنٹ کا یہ ڈیزائن دہلی میں غیاث الدین تغلق اور بخارا (ازبکستان) میں اسماعیل سامانی کے مزار کے ڈیزائن سے شدید متاثر ہے۔

Ghiyas-ud-din Tughlaq
Ismail Samani Mausoleum

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button