NewsWorld

بھارت کا کشمیر میں اسٹریٹیجک سرنگ کی تعمیر کا منصوبہ

بھارت کے زیرانتظام وادی کشمیر کو لداخ سے جوڑنے کےلیے ٹنلز اور پُلوں کی تعمیر کے ایک بہت اہم پراجیکٹ پرکام شروع ہو چکا ہے۔ لداخ کی سرحدیں چین اور پاکستان سے ملتی ہیں۔ اس تناظر میں اس پراجیکٹ کو جرأت آمیزقراردیا جا رہا ہے۔

India plans to build strategic tunnel in Kashmir

ہمالیہ کے کوہستانی پتھریلے چٹانوں والا یہ علاقہ بھارتی زیر انتظام کشمیر کا حصہ ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں افراد بھارتی حکومت کے ایک غیر معمولی پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔ یہ کام ہے سرنگیں کھودنے اور پلوں کی تعمیر کا تاکہ وادی کشمیر کو لداخ سے جوڑا جا سکے۔

اسٹریٹیجک اہمیت

لداخ جنوبی ایشیا کے خطے کے چند اہم ترین اسٹریٹیجک علاقوں میں سے ایک ہے۔ اس کی سرحدیں چین اور پاکستان سے ملتی ہیں۔ یہ علاقہ سال کے چھ ماہ باہر کی دنیا سے کٹ جاتا ہے کیونکہ یہاں بہت شدید برف باری ہوتی ہے اور ان مہینوں کے دوران اس کا انحصار ہوائی ذرائع سے پہنچنے والے سامان تک محدود رہتا ہے۔

بھارتی سرکاری ذرائع کے مطابق اس پراجیکٹ کے تحت چار سرنگیں کھودنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جن میں سے پہلی سرنگ کی کھدائی مکمل ہو چُکی ہے اور یہ 6.5 کلو میٹر یا چار میل طویل ہے۔ اس سرنگ کے ذریعے سونامرگ کے قصبے تک رسائی ممکن ہو گی جو ایک صحت افزا اور تفریحی مقام مانا جاتا ہے۔ سردیوں کے موسم میں پہلی بار سونامرگ قابل رسائی ہو گا۔ یہ علاقہ شنک پوش پہاڑوں یا صنوبر کے درختوں سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں کے سلسلے پر ختم ہوتا ہے اور زوجیلا پہاڑیوں کے دوسری طرف لداخ شروع ہوتا ہے۔’طالبان کی کامیابی نے کشمیری جنگجوؤں میں امید پیدا کر دی ہے‘

 932 ملین ڈالر کی لاگت سے ان چار سرنگوں کی تعمیر کے منصوبے کی چوتھی اور آخری سرنگ 14 کلو میٹر طویل ہوگی جو زوجیلا کے چیلنجنگ پہاڑی علاقے سے گزرتے ہوئے سونامرگ کو لداخ سے جوڑے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ بھارت کی بلند ترین اور طویل ترین سرنگ ہوگی۔ یہ سرنگ گیارہ ہزار پانچ سو فٹ یا تین ہزار چار سو پچاسی میٹر کی بلندی پر تعمیر کی جائے گی۔ اس پراجیکٹ پر کام کرنے والے ایک کارکن طارق احمد لون، جو ڈرلننگ مشین پر کام کرتے ہیں کا کہنا ہے، ”یہ کسی دوسرے تعمیراتی کام کی طرح نہیں ہے۔ یہ سیکھنے کا ایک نادر موقع ہے۔‘

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button