NewsWorld

بھارت میں 2020ء کے دوران مذہبی فسادات میں اضافہ

Religious riots

بھارت میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے سبب لاک ڈاؤن کے دوران عوامی نقل وحرکت محدود ہونے کے باوجود مذہبی فسادات میں اضافہ ہوا۔ مذہبی بنیادوں پر تشدد کے سب سے زیادہ واقعات دارالحکومت دہلی میں رپورٹ کیے گئے

دیگر ممالک کی طرح بھارت میں بھی 2020ء کا بیشتر حصہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں گزرا۔ اس دوران نقل وحمل کی وسیع تر پابندیوں کے باعث دیگر جرائم میں تو کمی آئی، لیکن مذہبی بنیادوں پر ہونے والی جھڑپوں  میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ بھارت میں پچھلے سال 25 مارچ سے 31 مئی تک ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ تھا۔

مذہبی فسادات میں دوگنا اضافہ

جمعرات 16 ستمبر کو جاری کی گئی سرکاری رپورٹ کے مطابق سن 2020 میں مذہبی فسادات کے واقعات  کی تعداد سن 2019 کے مقابلے میں دوگنا ہوگئی۔

بھارت میں جرائم کا ریکارڈ جمع کرنے والے قومی دفتر کی جانب سے شائع کردہ تازہ رپورٹ ‘کرائم اِن انڈیا 2020ء‘  کے مطابق گزشتہ برس ملک میں فرقہ وارانہ اور مذہبی فسادات کے 857 مقدمات درج کیے گئے جبکہ سن 2019 میں ان کیسز کی تعداد 438  اور سن 2018 میں 512  تھی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button