NewsWorld

بھارتی کسانوں کا احتجاجی مظاہرہ: آٹھ ہلاکتیں

ایک مرکزی وزیر کے بیٹے نے مبینہ طور پر مظاہرین پر گاڑی چڑھا دی، جس کے نتیجے میں چار کسانوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور علاقے میں زبردست کشیدگی پائی جاتی ہے۔

ریاست اتر پردیش کے ضلع لکھیم پور کی پولیس کا کہنا ہے کہ کسان رہنماؤں کی شکایت پر داخلہ امور کے وزیر مملکت اجے کمار مشرا کے بیٹے کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے تاہم اس کے ساتھ ہی وہاں فساد کرنے والے بعض نامعلوم افراد کے خلا ف بھی مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

لکھیم پور میں کسانوں کے مظاہرے میں تشدد کے واقعات کے بعد علاقے میں حالات بہت کشیدہ ہیں جہاں حکام نے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی ہیں۔ گزشتہ رات سے ہی سینیئر حکام سمیت حکومت نے وہاں بڑی تعداد میں پولیس فورس بھی تعینات کر رکھی ہے۔

اس دوران حکومت نے متاثرہ علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر نے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہےکہ تا حکم ثانی  علاقے میں کسی بھی طرح کے اجتماع کی اجازت نہیں ہے۔ حکومت نے حزب اختلاف کے تمام رہنماؤں کی وہاں آمد پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

اتوار تین اکتوبر کی شام لکھیم پور کھیری میں تین گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلے نے وہاں احتجاجی مظاہرہ کرنے والے کسانوں پر مبینہ طور پر اپنی گاڑیاں چڑھا دی تھیں۔ اس واقعے میں چار کسان مظاہرین سمیت آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد علاقے میں پرتشدد واقعات شروع ہو گئے اور کئی گاڑیوں کو نذر آتش بھی کر دیا گیا۔

کسانوں کا یہ مظاہرہ تکونیا نامے علاقے میں ہو رہا تھا۔ شام کے وقت جب ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریا اور مرکزی وزیر اجے کمار مشرا ادھر سے گزرے تو بطور احتجاج کسانوں نے ان کا راستہ روکنے کی کوشش کی اور تب ہی پرتشدد واقعات شروع ہو گئے تھے۔

بھارت میں کسانوں کی مختلف تنظیمیں مودی حکومت کے متعارف کردہ بعض زرعی قوانین کی گزشتہ تقریباﹰ ایک سال سے مخالفت کر رہی ہیں اور اس دوران ملک کے مختلف علاقوں میں ان کے دھرنے بھی جاری ہیں۔ اس واقعے سے قبل بھی کسان مظاہرین کو دبانے کے لیے حکومت کئی بار سخت اقدامات کر چکی ہے۔

کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز گاڑیوں کے جس قافلے نے مظاہرین کو ٹکر ماری، اس میں شامل ایک گاڑی مرکزی وزیر کے بیٹے اشیش مشرا چلا رہے تھے۔ ان کا الزام ہے کہ حکمراں جماعت بی جے پی نے دانستہ طور پر مظاہرین کو نشانہ بنایا اور اس واقعے کے بعد مرکزی وزیر کو فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

Farmer Protest

کسان تنظیموں کے اتحاد ’سمیوکت کسان مورچہ‘ نے چار مرنے والے کسانوں کی شناخت ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے میں مظاہرین میں سے 20 سالہ لوپریت سنگھ، 35 سالہ دل جیت سنگھ، 60 سالہ نچھتر سنگھ اور  19 سالہ گوروندر سنگھ ہلاک ہوئے۔

تاہم مرکزی وزیر اجے مشرا کا کہنا ہے کہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا، اس وقت ان کے بیٹے اشیش مشرا وہاں موجود ہی نہیں تھے۔ اجے مشرا کے مطابق اس واقعے میں کسان مظاہرین کے علاوہ ہلاک ہونے والے دیگر افراد کا تعلق بھی بی جے پی کے کارکنوں سے ہے۔

انہوں نے بھارتی میڈیا سے بات چیت میں کہا، ’’میرا بیٹا موقع پر موجود ہی نہیں تھا۔ وہاں شر پسند عناصر تھے، جنہوں نے کارکنوں پر لاٹھیوں اور تلواروں سے حملہ کیا۔ اگر میرا بیٹا وہاں ہوتا، تو وہ زندہ باہر نہیں آ سکتا تھا۔‘

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button