News

بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سے بگڑتی ہوئی صورتحال

Balochistan map

جولائی، اگست کے مہینوں میں معتدل موسم کے لیے مشہور کوئٹہ اور زیارت کا درجۂ حرارت بھی پچھلے تمام ریکارڈ توڑتا نظر آیا۔ اس حوالے سے انٹرنیشنل یونین فار  کنزرویشن آف نیچر کے ریجنل کو ارڈینیٹر  نصیب اللہ نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ  کوئٹہ کا درجۂ حرارت اب 45 سینٹی گریڈ ڈگری سے زیادہ ہونے لگا ہے، جو پچھلی چھ دہائیوں میں کبھی ریکارڈ نہیں کیا گیا تھا،”بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں سے خطے کا صدیوں پرانا ایکو سسٹم تبدیل ہو رہا ہے جس کے اثرات نمایاں ہیں۔‘‘ ان کے بقول موسم سرما سکڑ  کر محض تین ماہ کا ہو گیا ہے، جس میں شاذو نادر ہی بارش و برفباری ہوتی ہےجبکہ موسم گرما طویل اور شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔

گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آنے والی قدرتی آفات کے باعث بلوچستان کا تقریبا 70 فیصد حصہ شدید متاثر ہوا ہے۔ اس وجہ سے صوبے کے باسیوں کی زندگیوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

Climate change in Balochistan

بلوچستان ارضیاتی ساخت کے حوالے سے منفرد ہے۔ یہاں سنگلاخ پہاڑ  اور ریتیلے میدانوں کے ساتھ ایک طویل ساحلی پٹی بھی ہے۔ یوں بلوچستان کا ایکو سسٹم منفرد خصوصیات کا حامل رہا ہے مگر اس وجہ سے یہاں موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے چیلنجز بھی پیچیدہ ہیں۔

پانی کی کمی سے پھلوں کی فروخت سے ہونے والی آمدنی بھی کم ہو گئی ہے، جو زمیندار پہلے دس لاکھ کماتے تھے اب وہ بمشکل پانچ لاکھ کما پاتے ہیں۔ اس کے علاوہ پہاڑوں پر خود رو گھاس اور سبزہ پانی کی کمی اور شدید گرمی کی وجہ سے ناپید ہوتا جا رہا ہے، جس سے گلہ بانی پر بھی منفی اثرات پڑے ہیں۔ کلیم بتاتے ہیں کہ زیارت اور گرد ونواح سے لوگ بڑے پیمانے پر روزگار کی تلاش میں کوئٹہ منتقل ہو رہے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button