NewsWorld

امریکہ کا آواز سے پانچ گنا تیز رفتار، ہائپر سانک میزائل کا تجربہ

امریکا آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ تیز رفتاری سے سفر کرنے کی اہلیت کے حامل ایسے نئے میزائل نظام پر کام کر رہا ہے جو رفتار اور خفیہ رہنے کی صلاحیت اور دشمن کو حیران کر سکتا ہے۔

امریکا نے آواز کی رفتار سے پانچ گُنا تیز رفتار میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق 2013ء کے بعد سے اس طرح کے کسی ہتھیار کا یہ اولین تجربہ ہے۔ امریکا کی ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پراجیکٹس ایجنسی (DARPA) کی طرف سے پیر 27 ستمبر کو ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس میزائل کا تجربہ گزشتہ ہفتے کیا گیا۔

امریکی ہائپرسانک میزائل کا یہ تجربہ روس کی طرف سے اسی طرح کے ایک میزائل تجربے کے چند ماہ بعد ہی ہوا ہے۔ رواں برس جولائی میں روس نے بھی ہائپر سانک کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اس موقع پر کہا تھا کہ اس میزائل کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں ہے۔

Hypersonic missile test

امریکی میزائل نظام کو ‘ہائپر سانک ایئر بریدنگ ویپن کنسپٹ‘ یا (HAWC) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ نظام ایرواسپیس اور ڈیفنس کے شعبے کی دو بڑی کمپنیوں ریتھیون ٹیکنالوجیز اور نارتھروپ گرومان کی جانب سے تیار کیا گیا ہے۔

میزائل کا تجربہ کس طرح ہوا؟

امریکی محکمہ دفاع کے پروگرام DARPA اور امریکی ایئرفورس کے ساتھ مل کر کیے جانے والے اس تجربے میں ایک جہاز کے پر کے نیچے نصب اس میزائل کو چھوڑا گیا اور اس کے چند سیکنڈز بعد اس کا راکٹ بوسٹر اسٹارٹ ہو گیا جو اس کی رفتار آواز کی رفتار کے برابر یا Mach 1 تک لے گیا۔

اس کے بعد میزائل میں نصب ایک اور انجن نے جسے “scramjet” کہا جاتا ہے اپنا کام شروع کر دیا اور اس میزائل کو ہائپرسانک رفتار تک لے گیا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button