International News

افغانستان میں لڑکیوں کو تعلیم کی مکمل اجازت

افغانستان کے زیادہ تر علاقوں میں جہاں لڑکیاں گھروں میں رہتی ہیں اور لڑکے اسکول جاتے ہیں، وہیں ملک کے شمالی علاقوں میں اسکول بچیوں کے لیے کھلے ہیں۔ یہ اقدام طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے علاقائی تناؤ کو ظاہر کرتا ہے۔

تقریباﹰپورے افغانستان میں لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول بند ہیں لیکن مزار شریف، جو ازبکستان کی سرحد کے قریب ہے، وہاں مقامی انتظامیہ الگ سوچ رکھتی ہے۔ ذبیح اللہ نورانی شمالی صوبے بلخ میں ثقافت اور اطلاعات کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں لڑکیاں بھی جاتی ہیں اور لڑکے بھی۔ ”جہاں جہاں اسکول کھلے ہیں، وہاں کوئی پابندی نہیں ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم میں کوئی رکاوٹ نہیں۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف ان کی بلکہ ان جیسے کئی دیگر افسران کی رائے میں بھی بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے کا پورا حق ہے۔

Girl’s school in Afghanistan

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بچیوں کی تعلیم ایک بہت حساس موضوع بن گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ چھٹی جماعت کے بعد لڑکیاں گھروں سے باہر نکل کر اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے نہیں جا سکتیں۔ طالبان حکام کہتے ہیں کہ انہوں نے براہ راست ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا۔ لیکن ان کی حکومت کے قیام کے کئی ہفتے بعد بھی ملک کے زیادہ تر علاقوں میں لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول بند ہیں اور یہ واضح نہیں کہ وہ کب کھلیں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button