International NewsNews

آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں 246 دن کا ریکارڈ لاک ڈاؤن

آسٹریلیا کا جنوب مشرقی حصہ کورونا سے بڑے پیمانے پر متاثر ہو رہا ہے۔ متعدد اقدامات کے باوجود کورونا مریضوں کی تعداد ایک بار پھر آسمان کو چھو رہی ہے۔ میلبورن میں دوبارہ پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں۔

کورونا وبائی مرض کے آغاز کے ڈیڑھ سال بعد آسٹریلیا کے شہر میلبورن نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ آسٹریلیا کے براڈکاسٹر اے بی سی کی رپورٹ کے مطابق براعظم کے جنوب مشرقی سرے پر واقع ریاست وکٹوریہ کا دارالحکومت اب کل 246 دنوں کے لیے لاک ڈاؤن میں ہے۔ اس طرح میلبورن نے سابقہ ​​ریکارڈ ہولڈر بیونس آئرس کو پیچھے چھوڑ دیا۔

حال ہی میں اس ریاست میں نئے کورونا انفیکشنز میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ وکٹوریہ حکام کے مطابق فی الحال 1377 نئے کووڈ مریض سامنے آئے ہیں، جو ہفتے کے روز کے مقابلے میں ایک سو کم ہیں، جب ایک نیا ریکارڈ بنا تھا۔ حکام نے حالیہ اضافے کے لیے آسٹریلیا میں فٹ بال سیزن کے اختتام پر ہونے والی تقریبات کو مورد الزام ٹھہرایا۔ پچھلے ہفتے کے اختتام پر  اس دوران اکثر سخت کورونا قوانین کی خلاف ورزیاں دیکھی گئی تھیں۔

Record lockdown in Melbourne, Australia

نئے کورونا مریضوں میں نصف سے زائد تعداد ایسے نوجوان مریضوں کی ہے، جن کی عمریں دس سے انتیس برس کے درمیان ہیں۔

یہ علاقہ تقریباﹰ دو ماہ سے سخت لاک ڈاؤن میں ہے اور مجموعی طور پر یہ اس علاقے میں چھٹا لاک ڈاؤن ہے۔ بڑے شہر میلبورن اور اس کے مضافاتی علاقوں کے پچاس لاکھ باشندے مسلسل نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں اور نفسیاتی عوارض و مسائل کی حدوں تک پہنچ چکے ہیں۔

ملک کی اسی فیصد آبادی کو ویکسین کی کم از کم پہلی خوراک ملنے کے بعد گزشتہ ہفتے پابندیوں میں قدرے نرمی کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا  کہ لوگوں اپنی رہائش گاہوں سے دس کلومیٹر کے بجائے  پندرہ کلومیٹر کے دائرے میں نقل و حرکت کی اجازت مل گئی ہے۔ اسی طرح گولف اور دیگر آؤٹ ڈور کھیلوں کی دوبارہ اجازت دی گئی ہے۔

تقریبا پچیس ملین باشندوں والا یہ ملک ایک طویل عرصے سے ‘صفر کووڈ حکمت عملی‘ پر عمل پیرا تھا۔ اس ملک نے اپنی بیرونی سرحدوں کی بندش کے ساتھ ساتھ انتہائی سخت اقدامات سے اس وائرس کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم کورونا وائرس کی نئی قسم ڈیلٹا کے پھیلاؤ کی وجہ سے اب کئی علاقائی حکام تسلیم کر رہے ہیں کہ ان کی پالیسی ناکامی سے دوچار ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button